ملائشیا میں پولیس تنگ کرے، راستے میں روکے، پیسے مانگے تو کیا کرنا چاہیے؟

ملائشیا میں مقیم غیر ملکیوں کی اکثریت ملائشیئن پولیس سے واقف ہو گی۔ کیسے راہ چلتے غیر ملکیوں سے ڈرا دھمکا کر پیسے بٹورتے ہیں… اس کی اصل وجہ کیا ہے؟ کیا ملائشیئن پولیس واقعی اتنی طاقتور ہے کہ کسی کو بھی ڈرا دھمکا کر پیسے لے سکتی ہے یا پھر غیر ملکی اتنے کمزور ہیں کہ انہیں کوئی بھی آسانی سے دبا سکتا ہے؟؟؟
ملائشیئن پولیس کے بارے میں تو کوئی دو رائے نہیں کہ ان کی اکثریت رشوت لیتی ہے۔ بلکہ اکثر تو اتنے ظالم ہیں کہ ایک مزدور جو دن بھر محنت کر کے پچاس سو رنگٹ کماتا ہے اسے بھی نہیں بخشتے۔ لیکن اس کی اصل وجہ پولیس نہیں شاید غیر ملکی خود ہیں… وجہ بھی جانا لیجئے۔
اکثر غیر ملکی ملائشیئن قوانین اور ملائشیا میں غیر ملکی کی حیثیت سے اپنے حقوق سے ناواقف ہوتے ہیں۔ تعلیم اور شعور کی کمی ان کے ساتھ ہونے والے مظالم کی اصل وجہ بنتی ہے۔
یاد رکھیں پولیس کے پاس کوئی اختیار نہیں کہ بغیر کسی شک کے کسی بندے کو روکے اور اس سے تفتیش کے نام پر پیسے بٹورے۔ اگر آپ کے ساتھ ایسا کوئی واقعہ پیش آئے تو بڑے تحمل کے ساتھ پہلے پولیس والے کی بات سنیں۔ پھر ملائشیا میں اپنی قانونی حیثیت ثابت کریں۔ یعنی پاسپورٹ، جالن کارڈ وغیرہ دکھائیں۔ اگر اس کے باوجود وہ آپ کو تنگ کرے تو اس کا نام نوٹ کریں اور قریبی پولیس سٹیشن میں اس کی رپورٹ کریں۔ اگر آپ کو پولیس سٹیشن لے جانے کی دھمکی دے تو خوشی سے اس کے ساتھ چل پڑیں۔ اگر آپ لیگل ہیں تو پچاس رنگٹ کی اوقات والا آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ بلکہ آپ اس پر ڈرانے، دھمکانے، رشوت مانگنے اور بلاوجہ آپ کی تضحیک کرنے کا مقدمہ کر سکتے ہیں۔ لیکن ایسا تب ممکن ہے جب آپ خود قانونی حیثیت رکھتے ہوں۔

دوسری صورت میں اگر آپ الیگل ہیں، وزٹ ویزا پر آ کر کام کر رہے ہیں، یا آپ کا ویزا ختم ہو گیا اور ری نیو نہیں ہو رہا تو آپ انہی پولیس والوں کے رحم و کرم پر رہیں گے۔ جب تک کما رہے ہیں، انہیں بھی کھلاتے رہیں۔ جب آپ سمجھیں کہ کام ٹھیک نہیں ہے، اچھی کمائی نہیں ہو رہی تو فورا سے پہلے پاکستان واپس چلے جائیں۔

پولیس کے بارے میں کمپلینٹ کی جا سکتی ہے، اس سے زیادہ آپ کچھ نہیں کر سکتے ہیں۔ ہاں، مگر ایک چیز ہے جو آپ کر سکتے ہیں۔ پہلے خود قانونی طریقے سے ملائشیا میں رہیں، لیگل کام کریں پھر کوئی مائی کا لعل آپ کو ملائشیا میں تنگ نہیں کر سکتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *